ایک ماں کا پئقام؟

آج بیٹے کی بہت یار آئ 

جب آیک اور بیٹا اپنی ماں کو اولڈ ھوم چھوڑ کر جا رھا تھا 

اس کی آنکھوں مے بھی آنسو تھے جئسےاس رن میری آنکھو مے تھے

آخر ھم ماوں کاقصور کیا تھا

کے تم جیسے بیٹے کو دنیا مے لے کر اے 

         یا  

تم جیسے بیٹے کو پالا 

ایک ماں کا درد صرف وہ ھئ جاں سکتی ھے

 نو9 مھینے پیٹ مے رکھا جو درد سھا تب اوف تک نھ کی

تب وہ یھ نھ بولی کے اپنی اولاد کو دنیا مے لا رھی ھے

کیوں یھ درد سھ رھی ھے 

بیٹے کو پال کے بڑا کیا اس کو اچھا انسان بنیا کیا اس لیے کے وہ مجھےاکیلا چھوڑ جاے 

کئے بار بیٹے کو فون کیا کے مجھے یھاں سے لے جا تیرے بعیر دل نئ لگتا بچوں کی بھت یاد آتی ھے

بیٹے نے دل توڈ دیا کبھی اس کے لیے جو ھات دعا کے لیےاٹھتے تھے اج نھی اٹھتے

مے نے اپنئ زندگی کے کیھئ سال  یو ھی گزار دیے 

کھئ ماوں کو یھاں اتے اور جاتے دیکھا

اج مے خود اس انتظار مے ھوں کے کب کوی فرشتا آے اور مجھے بھی لے جاے

یھاں سب لوگ بھت اچھے ھیں مگر گھر کی بحت یاد اتی ھے جس گھر مے بیھا کے آی تھی

نا جانے کب انکھ بند ھو جاے 

اج سب بچوں کوایک پیعام ھے

اپنی ماوں کو کبھی رسوا نھ کرنا 

کبھی اپنی ماں کو یوں تنہا نا کرنا 

کبھی اپنی ماں کی بدعا نا لینا 

کسی پراہئ کے لیے اپنی ماں کو اولد ھوم نا چھوڈنا

ماں کی پریشانی دیکھ کر اللہ نے بھی صفا مروا کو حج کا رکن بنا دیا پہاڈ سے زم زم بہا دیا 

ماں کی قدر کو اس کی بدعا سے بچو

Writen by HOOR

Advertisements

2 thoughts on “ایک ماں کا پئقام؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s